ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / چنتامنی : جو فرد تعلیم سے محروم ہے وہ زندگی کی لذتوں سے محروم :کے۔وی۔چوڈپا

چنتامنی : جو فرد تعلیم سے محروم ہے وہ زندگی کی لذتوں سے محروم :کے۔وی۔چوڈپا

Sat, 01 Apr 2017 12:36:17    S.O. News Service

چنتامنی:یکم اپریل(محمد اسلم/ایس او نیوز)ایک انسان اسی وقت مکمل انسان کہلاتا ہے جب علم کی روشنی سے آشنا ہو علم نہ صرف انسان کو نکھارتا بلکہ وہ علم کے بل بوتے پر سماج اور ملک کی تعمیر نو میں اہم کردار ادا کرتا ہے جو فراست ایک پڑھے لکھے کو حاصل ہوتی ہے وہ کسی جاہل کو کبھی حاصل نہیں ہوسکتی ہے تعلیم یافتہ فرد اپنے قول و فعل دونوں سے دوسروں کے لئے سود مند ثابت ہوتا ہے آج کے اس جدید دور میں تعلیم ہی اہم مقام اور درجہ دلانا ہے جو فرد تعلیم سے محروم ہے وہ زندگی کی لذتوں سے محروم قرار دیا گیا ہے ان خیالات کااظہار پرائمری ٹیچرس اسوسی ایشن کے ریاستی نائب صدر کے۔وی۔چوڈپا نے کیا ۔

تعلقہ کے کیوار ہوبلی مڈبہلی گرام کے سرکاری پر ہائر و ائمری اسکول کے سالانہ جلسے میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بچوں کے لئے عمدہ تعلیم مہیا کروانے کی غرض سے حکومت سالانہ کروڑوں روپئے خرچ کررہی ہے جبکہ اسی تعلیم کے لئے پرائیویٹ ادارے تعلیم کے نام پر ہزاروں روپئے ڈونیشن اور فیس لے رہے ہیں انہوں نے والدین سے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں داخلہ دلوانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پرائیویٹ اسکولوں اور کالجوں میں فی بچے کی تعلیم کے لئے والدین کو ماہانہ 5ہزار خرچ آتا ہے جبکہ سرکاری اسکولوں میں بچوں کو مفت نصابی کتابیں نوٹ بکس گرم کھانا اور شیر ابھاگیہ کے تحت بچوں کو مفت دودھ مہیا کرنے کے علاوہ بچوں کی نشونما کے لئے مفت ہیلتھ چیک آپ اور دوائیاں دی جاتی ہے ۔

پرائمری ٹیچرس اسوسی ایشن کے تعلقہ صدر آر۔اشوک کمار نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عمدہ تعلیم کے ہمراہ اگر بچوں کو ادبی ،فنی اور ثقافتی ہنر مندی کی تعلیم سے آراستہ وپیر استہ کیا جائے تو بچوں کے اندر اوراعتماد بحال ہوگا اور کسی ایک شعبے کا انتخاب کرنے میں آسانی ہوگی ایک طالب علم کی ترقی اسی وقت ہوسکتی ہے جب وہ ذہنی اور جسمانی طور پر مکمل تیار ہوجائے اس کے لئے صرف روایتی تعلیم پر اکتفا کرنے کی بجائے طلبہ کہ چاہئے کہ وہ اپنے اندر چھپی ہوئی مہارتوں کو منظر عام پر لائیں چار دیوار ی میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کو چاہئے کہ وہ کھیل اور ہنر مندی جیسے دیگر پرگراموں میں حصہ لیکر اپنی صلاحیتوں کو آزمائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ صرف معیار تعلیم میں ہی ترقی سے اخلاقی معیار بلند نہیں ہوتا معیار تعلیم میں ترقی کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ طالب علموں میں حسن معاشرت کا سلیقہ بھی آئے وگرنہ تعلیمی لیاقت چاہے طالب علموں میں جتنی ہو اگر اخلاقی طور پر زوال پستی کا شکار ہے تو یہ علم اس کیلئے سوائے تباہی اور بربادی کے کچھ نہیں ہے۔اس موقع پر ٹیچرس اسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری کے۔این۔وسنتا ریڈی سی آر پی ایم ای پرکاش منجوناتھ وینکٹیش ایشورا گوڈا وی ۔رمیش این ناگراج منجولا سمیت کئی ٹیچرس وغیرہ موجود رہے۔


Share: